14 جون 2013 - 19:30
زیارت میں واقع قائد اعظم محمد علی جناح ریزیڈینسی بم حملے میں تباہ

سنیچر کو انتہا پسندوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تاریخی رہائش کو کہ جسمیں پاکستان کے بانی نے اپنی عمر کے آخری ایام گزارے تھے راکٹ حملے اور دستی بموں کے دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔

ابنا: قائد اعظم ریزیڈینسی کے باہرایک پولیس اہلکار بھی انتہا پسندوں کے اس حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ایک پولیس اہلکار نے کہ جسے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار عسکریت پسند قائد اعظم ریزیڈینسی میں داخل ہوئے اور انہوں نے دستی بموں سے عمارت پر حملہ کیا۔عمارت کے ایک حصے میں آگ لگنے سے اس کے اندر تمام تاریخی یادگاریں تباہ ہو گئی ہیں۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے رہائش کے اندر نصب چھ اور بموں کو ناکارہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ایک اور پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ریزیڈینسی میں لکڑی کا ڈھانچہ پوری طرح جل گیا ہے تاہم بیرونی کنکریٹ کا ڈھانچہ اب بھی موجود ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند حملہ آور بحفاظت موقع سے فرار ہو گئے ہیں۔فرنٹیئر کور اور پولیس ریزیڈینسی پہنچ گئے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان  میں زیارت ایک سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے. سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہر موسم گرما میں ٹاؤن اور محمد علی جناح کی یادگار دیکھنے آتے ہیں۔......./169