ابنا: قائد اعظم ریزیڈینسی کے باہرایک پولیس اہلکار بھی انتہا پسندوں کے اس حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ایک پولیس اہلکار نے کہ جسے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار عسکریت پسند قائد اعظم ریزیڈینسی میں داخل ہوئے اور انہوں نے دستی بموں سے عمارت پر حملہ کیا۔عمارت کے ایک حصے میں آگ لگنے سے اس کے اندر تمام تاریخی یادگاریں تباہ ہو گئی ہیں۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے رہائش کے اندر نصب چھ اور بموں کو ناکارہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ایک اور پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ریزیڈینسی میں لکڑی کا ڈھانچہ پوری طرح جل گیا ہے تاہم بیرونی کنکریٹ کا ڈھانچہ اب بھی موجود ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند حملہ آور بحفاظت موقع سے فرار ہو گئے ہیں۔فرنٹیئر کور اور پولیس ریزیڈینسی پہنچ گئے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں زیارت ایک سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے. سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہر موسم گرما میں ٹاؤن اور محمد علی جناح کی یادگار دیکھنے آتے ہیں۔......./169
14 جون 2013 - 19:30
News ID: 429930
سنیچر کو انتہا پسندوں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تاریخی رہائش کو کہ جسمیں پاکستان کے بانی نے اپنی عمر کے آخری ایام گزارے تھے راکٹ حملے اور دستی بموں کے دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔